اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شامی صدر کی پولیٹیکل اور میڈیا ایڈوائزر نے کہا ہے کہ ان کی حکومت، ملک کی ارضی سالمیت اور خودمختاری کے بارے میں کوئی سودے بازی نہیں کرے گی۔
شامی صدر کی پولیٹیکل اور میڈیا ایڈوائزر بعثینہ شعبان کاکہناتھا کہ ملک، قوم، ارضی سالمیت اور وطن کی خودمختاری، جنیوا مذاکرات میں حکومت شام کے مسلمہ اصول ہیں اور ہم ان پر کسی سے کوئی سودے بازی نہیں کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا شامی حکومت جینوا مذاکرات میں جو بھی فیصلے کرے گی ان ہی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کرے گی۔
توقع کی جارہی ہے کہ شامی حکومت اور مخالفین کے درمیان مذاکرات اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹیفن ڈی مستورا کی نگرانی میں ، پیر سے جینوا میں شروع ہوں گے۔
صدر بشار اسد کی پولیٹیکل اور میڈیا ایڈوائزر نے ان خبروں کو بھی سختی کے ساتھ مسترد کردیا کہ شامی اور روسی فضائیہ کے طیاروں نے اسپتالوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات قطعی ناممکن ہے کہ شامی اور روسی طیارے اسپتالوں اور عام شہریوں پر بمباری کریں۔
صدر بشار اسد کی ایڈوائزر نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ، امن و امان کی بحالی اور ملک کی ارضی سالمیت کا تحفظ ہمارے لیے سب سے زیادہ اہم ہے اور اس حوالے سے دمشق اور ماسکو کی پالیسیوں میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
بعثینہ شعبان نے خلیج فارس تعاون کونسل کی جانب سے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیئے جانے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ خلیج فارس تعاون کونسل کا یہ اقدام اس کی کمزوری و ناتوانی کے علاوہ اسرائیل دوستی اور اسلام دشمن طاقتوں کے ساتھ اس کونسل کے دیرینہ تعلقات کا نتیجہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169